صبح گاہ

قسم کلام: اسم ظرف زمان

معنی

١ - صبح کا وقت۔ "اکثر لاحقوں کو بھی علاحدہ لکھا جائے گا جیسے . نمایش گاہ، آشوب گاہ، صبح گاہ، قیام گاہ۔"      ( ١٩٧٣ء، اردو املاء، ٤٧٠ ) ١ - صُبْح کے وقت، علی الصباح، صُبح سویرے۔  کیا کوچ پھر شاہ نے صبح گاہ پاسباب و حشمت پسامانِ جاہ      ( ١٨٠٢ء، بہار دانش، طیش، ٨٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صبح' کے بعد فارسی لاحقۂ ظرفیت 'گاہ' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور متعلق فعل اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیاتِ قلی قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - صبح کا وقت۔ "اکثر لاحقوں کو بھی علاحدہ لکھا جائے گا جیسے . نمایش گاہ، آشوب گاہ، صبح گاہ، قیام گاہ۔"      ( ١٩٧٣ء، اردو املاء، ٤٧٠ )

جنس: مؤنث